ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک محکمہ اقلیتی بہبود میں 50کروڑ روپے کے گھپلے کا انکشاف!

کرناٹک محکمہ اقلیتی بہبود میں 50کروڑ روپے کے گھپلے کا انکشاف!

Thu, 08 Oct 2020 14:08:41    S.O. News Service

بنگلورو،8؍اکتوبر(ایس او  نیوز) ریاست کے محکمہ اقلیتی بہبود میں مساجد اور دیگر مذہبی مقامات کو واٹر فلٹر کی فراہمی میں مبینہ بے قاعدگیوں کے بعد اب اسی محکمہ کے تحت چلنے والے کرناٹکا مائنارٹیز ڈیولپمنٹ کارپوریشن (کے ایم ڈی سی) میں غریب اقلیتی طبقات سے آنے والے طلباء کو اعلیٰ تعلیم کیلئے دئیے جانے والے اریو قرضہ کی اسکیم میں بہت بڑی دھاندلی کا معا ملہ سامنے آیا ہے۔

یہ معاملہ نیا نہیں لیکن محکمہ کے امور پر فائز اعلیٰ افسروں نے اب تک اس معاملہ کو اپنے اثر و رسوخ کے دم پر دبائے رکھا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی طرف سے غریب اقلیتی طلباء کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے اریوو۔2/اسکیم کے تحت قرضہ دینے کے لئے رائج اسکیم کا غلط استعمال کرتے ہوئے 50کروڑ روپیوں تک کے قرضے فرضی ادارے اور فرضی امیدواروں کو دے کر گھپلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں 2019میں ہی شہر کے آر ٹی نگر پولیس تھانے میں شکایت درج کروائی گئی اور اس سلسلہ میں ایک ایک مقدمہ ایف آئی آر نمبر 0019/2019کے تحت درج ہوا۔معاملہ یہ ہے کہ اریوو۔2/اسکیم کے تحت تعلیمی قرضوں کیلئے جہاں کے ایم ڈی سی میں عرضیوں کے انبار لگے ہوئے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں مستحق طلباء اپنے تعلیمی سفر کو آگے بڑھانے کیلئے کے ایم ڈی سی کے قرضہ کی امید لگائے بیٹھے ہیں ان کو بروقت قرضہ نہیں مل پاتا لیکن اریوو اسکیم۔ 2کے تحت قرضہ جاری کرنے کیلئے کے ایم ڈی سی کے ملازموں نے شہر کے آرٹی نگر کا پتہ دے کر ایک فرضی تعلیمی ادارہ بنا لیا۔

اس ادارے کا نام نیشنل اکیڈمی مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی دیا گیا اور اس میں زیر تعلیم طلباء کی ایک فرضی فہرست بنائی گئی۔ ان طلباء کے ناموں پر فرضی قرضے منظور کئے گئے اور ان قرضوں کی رقم جمع کرنے کیلئے آر ٹی نگر کے آئی سی آئی سی آئی بینک میں ایک بینک اکاؤنٹ بھی کھولا گیا۔ اریوو۔2کے سرکاری پورٹل سے اس رقم کی فرضی ادارے کے بینک اکاؤنٹ کو منتقلی کیلئے ایک فرضی ای میل بنایا گیا اور اس سے کام کر کے رقم کی منتقلی کروائی گئی۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس گھپلے میں محکمہ اقلیتی بہبود کا ایک مستقل ملازم اور کنٹراکٹ پر کام کرنے والے چار ملازم شامل ہیں۔ 2019کے دوران آر ٹی نگر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان ملازموں کے پاس سے دو لیپ ٹاپ، کے ایم ڈی سی کے بینک کوٹک مہیندرا بینک اکاؤنٹ سے لین دین کے لئے اس بینک کی مہریں وغیرہ ضبط کی گئی تھیں اور اس مرحلے میں ان ملازموں نے یہ مان لیا تھا کہ ان لوگوں نے فرضی لاگ ان کے ذریعے اریوو قرضہ کی رقم فرضی ادارے کے کھات میں منتقل کی تھی۔ لیکن اس کے بعد معاملہ طویل مدت تک سرد خانے میں چلا گیا۔ اب اس معاملہ پر سخت کارروائی کی مانگ کرتے ہوئے ریاست کے چیف سکریٹری کو جی رحمن شریف نامی ایک صاحب نے مکتوب روانہ کیا ہے۔

لیکن بتایا جاتا ہے کہ اعلیٰ افسروں نے اس پر کارروائی کو اپنے اثر و رسوخ سے روک رکھا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جیسے ہی اس معاملہ میں آر ٹی نگر پولیس تھانے میں یف آئی آر درج کی گئی محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری نے بی ابراہیم نے اس وقت کے ایم ڈی سی کے منیجنگ ڈائرکٹر اصلاح الدین گڑیال کو ایک مکتوب لکھ کر ہدایت دی کہ معاملہ کی جانچ کر کے انہیں رپورٹ روانہ کریں۔ لیکن اس سلسلہ میں کے ایم ڈی سی میں نہ ہی کوئی جانچ ہوئی اور نہ ہی محکمہ اقلیتی بہبود کو کوئی رپورٹ پیش ہوئی۔محکمہ اقلیتی بہبود کے ذرائع کا الزام ہے کہ محکمہ کے امور پر فائز اعلیٰ عہدیداروں کی سرپرستی کے بغیر ملازموں کے ذریعے اتنی بڑی دھاندلی ممکن نہیں ہو سکتی۔ اس لئے اس فائل کو سرد خانے میں رکھ دیا گیا تھا۔


Share: